آگ جو مجھ میں بھڑکتی تھی ، بجھا دی گئی کیا؟
مری مٹّی بھی ہواؤں میں اُڑا دی گئی کیا؟
یہ جو قاتل کو عدالت نے بَری کر ڈالا
یہ بھی مقتول کے بچّوں کو سزا دی گئی کیا؟
تیرے گھر کے در و دیوار مجھے بُھول گئے
مری تصویر بھی کمرے سے ہَٹا دی گئی کیا؟
تجھے کس نے سرِ بازارِ وفا بھیجا تھا
اے مِرے دل ! تِری قیمت بھی گھٹا دی گئی کیا؟
موسمِ تَرکِ تعلق کا تو اِمکاں ہی نہ تھا
اَن کہی بات کو دانستہ ہَوا دی گئی کیا؟
موت کے گھاٹ اُترنا ہے جنھیں ، جانِ انیس!
جرم کی فرد انھیں پڑھ کے سُنا دی گئی کیا؟
